ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جموں۔کشمیر: 20 سال میں سب سے بڑا دہشت گردانہ حملہ، 42 سی آر پی ایف جوان شہید، 45 زخمی

جموں۔کشمیر: 20 سال میں سب سے بڑا دہشت گردانہ حملہ، 42 سی آر پی ایف جوان شہید، 45 زخمی

Thu, 14 Feb 2019 23:10:04    S.O. News Service

نئی دہلی،14فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) جموں و کشمیر میں 20 سال میں سب سے بڑا دہشت گردانہ حملہ ہوا ہے۔ پلوامہ میں اونتی پورہ کے گوری پورہ علاقے میں سی آر پی ایف کے قافلے پر دہشت گردوں نے آئی ای ڈی سے بڑا دہشت گردانہ حملہ کیا ہے پھر تابڑتوڑ فائرنگ کی۔ اطلاعات کے مطابق ایجنسی اے این آئی کے مطابق، جموں۔کشمیر حکومت کے صلاح کار کے۔وجے کمار نے حملے میں 42 جوانوں کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ 45 جوانوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ شہیدوں کی تعداد آگے بڑھ سکتی ہے۔

اس حملے کے بعد جنوبی کشمیر میں انٹرنیٹ خدمات بند کردی گئی ہیں جبکہ سری نگر میں ٹو جی کی اسپیڈ گھٹا دی گئی ہے۔ وہیں اس حملے کے بعد جمعہ کو سکیورٹی معاملوں کی کابینہ کمیٹی میٹنگ کرنے والی ہے۔

دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے اس حملے کی ذمہ داری لی ہے۔ اری کے بعد اسے پہلا اتنا بڑا حملہ ماناجارہا ہے۔ 18 ستمبر 2016 کو ہوئے اری حملے میں صرف 19 جوان شہید ہو گئے تھے۔

بتایا جارہا ہے کہ سی آر پی ایف کے قافلے میں70 سے زیادہ گاڑیاں شامل تھیں۔ یہ سبھی چھٹیاں ختم کرکے ڈیوٹی پر لوٹ رہے تھے۔ اس میں 2500 سے زیادہ جوان سوار تھے۔ جانکاری کے مطابق، دہشت گردوں نے پہلے سکیورٹی اہلکاروں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا  پھر تابڑ توڑ فائرنگ بھی کردی۔ایسی خبریں آرہی ہیں کہ دہشت  گردوں نے آئی ای ڈی کے ساتھ گرینیڈ بھی پھینکا۔ حالانکہ ابھی اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ زخمی جوانوں کو اسپتال پہنچایا جارہا ہے۔ 

دہشت گردوں کو مقامی سطح پر ملی مدد: بتایا جارہا ہے کہ دہشت گردوں کو اس حملے کیلئےمقامی سطح  پر مدد ملی ہے۔ پہلے سڑک کنارے کھڑی ایک گاڑی میں آئی ای ڈی پلانٹ کیا گیاتھا۔ سی آر پی ایف کا قافلہ جب ادھر سے گزرا تو وہیں دھماکہ ہو گیا۔ قافلے کی کئی گاڑیاں بھی اس دھماکے کی زد میں آ گئیں۔ اس حملے کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں سکیورٹی ایجنسیوں نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ جگہ جگہ سرچ آپریشن چلایا جارہا ہے۔ زخمی جوانوں کو نزدیکی اسپتال پہنچایا جارہا ہے۔

بتادیں کہ جس بس کو نشانہ بنایا گیا وہ 55 سیٹر تھی اور اس میں 44 جوان سوار تھے۔ یہ جوان چھٹی سے لوٹ رہے تھے اور ڈیوٹی پر جارہے تھے۔ اس قافلے کو ایک ہفتہ پہلے ہی ڈیوٹی پر تعینات کیاجانا تھا لیکن کسی وجہ سے ان کی تعیناتی میں دیری کی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جس طرح سے حملہ کیا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ پہلے ریکی کی گئی۔ اس کے بعد ایک حکمت عملی کے تحت قافلے کو نشانہ بنایاگیا۔

پلوامہ میں اری جیسا بڑا دھماکہ: اس حملے کو اری کے بعد اب تک کا سب سے بڑا حملہ بتایا جارہا ہے۔ جانکاری کے مطابق تقریبا ایک ہفتے پہلے خفیہ ایجنسی نے پارلیمنٹ پر حملے کے قصوروار افضل گرو اور جے کے ایل ایف کے بانی محمد مقبول بھٹ کی پھانسی کی برسی (9فروری) کو لیکر الرٹ جاری کیا تھا۔ اس میں صاف کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں نے حملے کا پلان بنایا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں نے کہا تھا کہ دہشت گرد، جموں۔کشمیر میں سکیورٹی اہلکاروں کے قافلے اور ان کے آنے جانے کے راستے پر آئی ای ڈی حملہ کر سکتے ہیں۔

ان اضلاع میں ہائی الرٹ: اس حملے کے بعد فوج نے جموں، سری نگر ہائی وے پر ٹریفک روک دیا ہے اور سرچ آپریشن چلایا جا رہا ہے۔ اونتی پورہ، پلوامہ، شوپیاں، کلگام اور سری نگر اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

پلوامہ میں بم دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز زیادہ احتیاط برت رہے ہیں۔ بتادیں کہ اس سے پہلےبھی پلوامہ کے ہی ایک نجی اسکول کے اندر دھماکہ ہواتھا جس میں تقریبا 10 بچے زخمی ہوئے تھے۔ ساتھ ہی آج امپھال کے کانچی پور میں ایک اسکول کے باہر آئی ای ڈی بم ملنے کی اطلاع ملی تھی۔


Share: